Sultan Salahuddin Ayyubi Aur Ishq e Rasool: Baitul Muqaddas Ki Fatah Aur Sabaq (Khadim Hussain Rizvi)

Dr. Julian Vance & Sapiotic Engineering Group

September 15, 2026

Sultan Salahuddin Ayyubi Aur Ishq e Rasool اسلامی تاریخ کا وہ درخشندہ باب ہے جس نے امت مسلمہ کے وقار، عزم اور عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت کی حفاظت کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ خطیب بے بدل علامہ خادم حسین رضوی اپنے مخصوص ولولہ انگیز اور تاریخی خطابات میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی سیرت، ان کے مجاہدانہ کردار اور بیت المقدس کی فتح کے ایمان افروز واقعات پر روشنی ڈالتے ہیں۔

Sultan Salahuddin Ayyubi Aur Ishq e Rasool: غیرت ایمانی کا عظیم الشان مظاہرہ

تاریخ اسلام میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا نام عزم و ہمت اور شریعت کی پاسداری کا استعارہ ہے۔ علامہ خادم حسین رضوی فرماتے ہیں کہ سلطان ایوبی کی شمشیر زنی اور فتوحات کے پیچھے کوئی دنیاوی حاکمیت کی ہوس نہیں تھی، بلکہ ان کی تمام تر جدوجہد کا مرکز و محور عشق رسول ﷺ اور مسلمانوں کے قبلہ اول، مسجد اقصی کی آزادی تھی۔ صلیبی جنگجو رینالڈ ڈی شیٹیلون (ارناط) نے جب حجاز مقدس اور مدینہ منورہ پر حملے کی ناپاک جسارت کا ارادہ ظاہر کیا، تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے قسم کھائی تھی کہ وہ اس گستاخ کو اپنے ہاتھوں سے کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

“جب ارناط نے حاجیوں کے قافلے کو لوٹا اور خاتم النبین ﷺ کی ذات اقدس کے خلاف ہرزہ سرائی کی، تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے راتوں کی نیندیں حرام کر لیں۔ انہوں نے فرمایا کہ جب تک قبلہ اول صلیبیوں کے قبضے میں ہے اور دشمنان رسول کی ناپاک نگاہیں حرم کی طرف ہیں، مجھ پر مسکرانا حرام ہے۔”

اسی عشق و وفا کی برکت تھی کہ جنگ حطین (1187ء) میں مسلمانوں کو وہ تاریخی کامیابی نصیب ہوئی جس نے 88 سال بعد بیت المقدس کو صلیبی تسلط سے پاک کر دیا۔ عبادات اور نماز کے آداب کو سمجھنے کے لیے آپ ہمارا تفصیلی رہنمائی بلاگ نماز کا مکمل طریقہ اور ارکان بھی ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اصل گفتگو اور بیان کے الفاظ (Verbatim Spoken Discourse by Khadim Rizvi)

علامہ خادم حسین رضوی نے اس تاریخی واقعے کو بیان کرتے ہوئے اپنے جذباتی اور خطیبانہ انداز میں جو کلمات ادا فرمائے، ان کا خلاصہ اور الفاظ ذیل میں درج ہیں:

علامہ خادم حسین رضوی کے ارشادات:

  • سلطان کا حلف: “صلاح الدین ایوبی نے کہا تھا کہ ارناط تو نے حجاج کے قافلے پر حملہ کر کے کہا تھا کہ بلاؤ اپنے محمد (ﷺ) کو کہ وہ تمہیں بچائیں! خدا کی قسم، اب تیری گردن ہوگی اور صلاح الدین کی تلوار ہوگی!”
  • فتح حطین کے بعد کا منظر: “جب حطین کے میدان میں تمام صلیبی شہزادے اور بادشاہ قید ہو کر سلطان کے خیمے میں لائے گئے، تو سلطان نے شاہ یروشلم کو شربت کا پیالہ دیا لیکن ارناط کو دیکھ کر فرمایا: ارناط! میں تجھے شربت نہیں دوں گا کیونکہ عربوں کی روایت ہے کہ جسے شربت پلا دیا جائے اس کی جان بخشی ہو جاتی ہے۔ تو نے میرے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی، آج میں اپنے نبی کے نام پر تیرا خاتمہ کروں گا۔”
  • امت کو پیغام: “مسلمانوں! تم ایٹم بموں اور فوجوں کے بھروسے مت بیٹھو۔ اگر دل میں محمد عربی ﷺ کا سچا عشق اور غیرت نہ ہو تو بڑی بڑی فوجیں بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔ فتح اسلحے سے نہیں، دل میں مصطفیٰ کریم ﷺ کی وفاداری سے ملتی ہے۔”

سلطان صلاح الدین ایوبی کی سیرت سے معاصر امت مسلمہ کے لیے اسباق

علامہ خادم حسین رضوی کے اس درس عبرت سے امت کے نوجوانوں اور حکمرانوں کو درج ذیل رہنمائی حاصل ہوتی ہے:

عہد صلاح الدین کا واقعہ روحانی و سیاسی محرک آج کے مسلمانوں کے لیے پیغام
مسجد اقصی کی آزادی قبلہ اول کی حرمت اور اسلامی وحدت کا قیام۔ فلسطین کے مظلوموں کی عملی اور اخلاقی مدد۔
عفو و درگزر فتح مکہ کی طرز پر عیسائی رعایا کو جان و مال کا تحفظ۔ اسلامی انصاف اور غیر مسلموں کے حقوق کا احترام۔
غیرت رسول ﷺ توہین رسالت کے مجرم کو عبرتناک سزا۔ عقیدہ ناموس رسالت پر کوئی سودے بازی نہ کرنا۔

قرآنی احکامات اور سیرت طیبہ کے مطالعے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مستند مراجع جیسے Quran.com کے تراجم اور تفسیر ابن کثیر سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (Frequently Asked Questions)

سوال 1: بیت المقدس کی فتح کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

جب صلیبیوں نے 1099ء میں بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا تو انہوں نے 70 ہزار مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا، لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح کے بعد عام معافی کا اعلان کیا، کلیساؤں کو تحفظ دیا اور کسی پر ظلم نہیں ہونے دیا۔

سوال 2: سلطان صلاح الدین ایوبی کس فقہ کے پیروکار تھے؟

سلطان صلاح الدین ایوبی اہل سنت والجماعت کے پیروکار تھے، عقیدے میں اشعری اور فقہی معاملات میں فقہ شافعی پر عمل پیرا تھے، اور تمال ائمہ اربعہ کا یکساں احترام فرماتے تھے۔

سوال 3: جنگ حطین کی تاریخی اہمیت کیا ہے؟

جنگ حطین صلیبی جنگوں کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ تھی جس میں صلیبی فوج کو شکست فاش ہوئی اور اسی معرکے نے بیت المقدس کی فتح کا راستہ ہموار کیا۔

Leave a Comment